رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا مطالبہ


سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے اہل خانہ نے پیر کو اسلام آباد میں نیشل پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے ان کی وطن واپسی کے لیے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو ہزار سے زائد پاکستانی منشیات کی اسمگلنگ اور بعض دیگر الزامات کے تحت گزشتہ کئی سالوں سے سعودی عرب کی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں سے متعدد کو منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں سزائے موت دی جا چکی ہے

احتجاجی مظاہرے میں درجنوں افراد شریک تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ سعودی عرب میں قید ان کے رشتہ داروں کو پاکستان لایا جائے اور ان کے مقدمات کی سماعت پاکستان میں کی جائے تاکہ وہ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہ سکیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے نام لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے سعودی عرب میں قید اپنے عزیزوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ان کی فوری داد رسی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو ترجمان کی سہولت میسر نا ہونے کی وجہ سے وہ اپنا دفاع مؤثر طور پر کرنے سے قاصر ہیں اور بعض افراد کی سزائیں پوری ہونے کے باوجود بھی ان کی رہائی عمل میں نہیں آئی ہے۔

مظاہرے میں شریک محمد عمران کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی کو منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں سعودی عرب میں سزائے موت سنائی گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی سزائے موت پر عمل درآمد رکوایا جائے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ ‘‘ہماری یہ اپیل ہے کہ جتنے بھی پاکستانی سعودی عرب میں قید ہیں ان کو پاکستان لا کر ان کے مقدمات کی سماعت پاکستان میں کی جائے تاکہ ان کے عزیز و اقارب ان سے ملاقات کر سکیں۔ـ’’

قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان ' جے پی پی'سے منسلک محمد شعیب کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کو کئی طرح کے قانونی مسائل کا سامنا ہے جن میں سعودی نظام سے مناسب آگہی کا نا ہونا اور قونصلر رسائی اور قانونی امداد کی سہولت کا فقدان بھی شامل ہے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق لگ بھگ تین ہزار پاکستانی سعودی عر ب میں قید ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی تک باضابطہ طور پر حکومت کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ان تین ہزار میں سے جن افراد کو سزائیں سنائی گئیں ہیں ان کی تفصیل کیا ہے اور انہیں کن جرائم میں سزا سنائی گئی ہیں۔

’’اگر ان میں کسی کو سزائے موت سنائی گئی ہے تو وہ کس جرم میں سنائی گئی ہے۔ ان کی اپیلیں کس مرحلے پر ہیں اور ان کے خلاف مزید کارروائی کب کی جائے گی۔ـ‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے رشتہ داروں نے جسٹس پروجیکٹ کو بتایا کہ سعودی عرب میں قید بعض پاکستانیوں کو ایک بار سزا سنانے کے بعد ان کے مقدمات کی دوبارہ سماعت کر کے انہیں پھر سے مبینہ طور پر سزائیں سنائی جا رہی ہیں جو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تاہم ان کے بقول اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی وزارت خارجہ کے عہدیدار کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ بیرونی ممالک بشمول سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کو سفارتی رسائی کے ساتھ ساتھ قانونی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے اہل خانہ کے دعووں پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم سعودی عرب کے عہدیداروں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ سعودی نظام انصاف میں ملزموں کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے اور کسی بھی مجرم کو سزا دینے سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی بیرون ملک قید ہیں۔ ان میں سے زیادہ سعودی عرب کے میں قید ہیں اور ان کی بڑی تعداد منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر الزامات کے تحت وہاں مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔

سعودی عرب کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں منشیات کی اسمگلنگ کو ایک سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث مجرموں کے سر سزا کے طور پر قلم کر دیے جاتے ہیں۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق 2014 سے لے اب تک 70 سے پاکستانیوں کو منیشات کے جرم میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG