قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے لیے عاصمہ جہانگیر کی ’’مثالی جہدوجہد‘‘

فائل

امریکی محکمہٴ خارجہ نے عاصمہ جہانگیر کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے، انسانی حقوق کی نامور کارکن کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

ایک بیان میں، ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ ’’انسانی حقوق اور جمہوریت کی پاکستانی وکیل، عاصمہ جہانگیر کی قبل از وقت وفات کے سوگ میں ہم پاکستان اور دنیا بھر کے سوگواروں کے غم میں شریک ہیں‘‘۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ’’کئی برسوں تک، عاصمہ جہانگیر نے اُن لوگوں کے حقوق کا دفاع کیا جن کی کوئی شنوائی نہیں تھی؛ اور قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی سر بلندی کے لیے بے لوث جہدوجہد کی، جس میں مذہبی آزادی اور عقائد کا معاملہ شامل ہے‘‘۔

پاکستان میں اُن کے کام کا ذکر کرتے ہوئے، نوئرٹ نے کہا کہ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بانی و چیرمین تھیں؛ عدالت عظمیٰ کی بار کونسل کی سابق صدر؛ اور اقوام متحدہ اور دیگر گروپ، مثال کے طور پر ’انٹرنیشنل کرائسز گروپ‘ اور انسانی حقوق کا فورم برائے جنوبی ایشیا کی سرکردہ راہنما تھیں، جن اداروں کے لیے نمایاں کام نے اُنھیں انسانی حقوق کی ایک عالمی مثالی شخصیت بنا دیا تھا۔

ماضیِ قریب میں اُنھوں نے ایران میں انسانی حقوق سے متعلق ’خصوصی مندوب‘ کے طور پر خدمات انجام دیں، جس دوران اُنھوں نے ایرانی عوام کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کے حوالے سے انتھک کام کیا، ایسے میں جب ایرانی عوام نے آزادی، حرمت، اور انسانی حقوق کی سربلندی کا مطالبہ کیا۔

مذہب اور عقائد کی آزادی کے لیے اقوام متحدہ کی تیسری خصوصی مندوب کے طور پر، یہ سہرا اُنہی کے سر ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے دنیا بھر کی مذہبی اقلیتوں کی حالتِ زار کے بارے میں بہتر آگہی پیدا کی، جس کے لیے اُنھوں نے گہری تحقیق کی اور لگاتار رابطے جاری رکھے اور استحصال کے شکار افراد کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ’’اُن کی موت دنیا کے لیے بہت بڑا نقصان ہے، اور وہ اپنے ملک، اپنے عوام اور دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی سرکردہ چمپئن کی جدائی کا خلا محسوس کریں گے، جن کے لیے وہ اپنی آواز بلند کیا کرتی تھیں‘‘۔