پاکستان امن کے لیے افغانستان سے مل کر کام کرے: صدر غنی

صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن عمل میں سنجیدہ ہے اور اُن کے بقول اس کی عکاسی افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے سے ہوتی ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

منگل کی شب اپنے خطاب میں صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ’’میں پاکستان سے کہتا ہوں کہ وہ اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ (ریاست) کی سطح پر امن، سلامتی اور علاقائی تعاون و خوش حالی کے لیے ہمارے ساتھ مذاکرات کرے۔‘‘

اُنھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے سے متعلق نئی پالیسی کا سراہتے ہوئے کہا کہ اب ہم دہشت گردی کے خاتمے اور انتہا پسندی کو روکنے کے لیے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سنجیدگی سے مذاکرات کر سکتے ہیں۔

افغان صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ دیرپا امن سیاسی حل ہی سے ممکن ہے۔ اُنھوں نے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی دعوت بھی دی۔

صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن عمل میں سنجیدہ ہے اور اُن کے بقول اس کی عکاسی افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے سے ہوتی ہے۔

اس سے قبل صدر اشرف غنی نے عید الاضحٰی کے موقع پر بھی اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ اُن کا ملک پاکستان سے با معنی سیاسی مذاکرات چاہتا ہے۔

پاکستان میں قانون ساز اور تجزیہ کار اقوام متحدہِ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صدر اشرف غنی کی طرف سے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت کو خطے میں امن کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5

افغان صدر کے جنرل اسمبلی میں بیان کا خیر مقدم



قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی آفتاب شیرپاؤ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہو گئے تھے جو اُن کے بقول اب قدرے بہتر ہو رہے ہیں۔

’’میرے خیال میں پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے اور (صورت حال) بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ اس سے پہلے اُنھوں نے افغانستان میں بھی ایک بیان دیا تھا کہ ہم پاکستان سے جامع مذاکرات چاہتے ہیں تو یہ اس کا ایک تسلسل ہے۔‘‘

آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کے بقول اگر ایسے مواقع ضائع ہو جائیں تو پھر حالات بگڑ سکتے ہیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال کہتے ہیں کہ خطے میں امن کے حصول کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون بہت اہم ہے۔

’’میں اُن کے بیان کو سراہتا ہوں کہ افغان صدر نے اقوامِ متحدہ میں کہا ہے کہ ہم بیٹھ کر بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس خطے کے لیے بڑی اہم اور خوش آئند بات ہے۔‘‘

پاکستان کے سابق سفیر علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر مذاکرات کی پیشکش سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ ہفتوں میں رابطوں میں بہتری آئی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے افغانستان کا دورہ کیا تھا جب کہ پیر کو تہمینہ جنجوعہ اور افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت کرزئی کے درمیان نیویارک میں بھی ملاقات ہوئی تھی۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا جس میں دوطرفہ روابط کو بڑھانے پر بات چیت کی گئی تھی۔

افغان سفیر کی پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات

دریں اثنا پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے بدھ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں ملاقات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ایک بیان کے مطابق ملاقات میں سلامتی کی صورت حال سمیت باہمی دلچسپی سے متعلق معاملات پر بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعاون میں بتدریج بہتری پر بھی بات ہوئی اور اس میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔