ایران کی شہری ہوا بازی نے منگل کے روز بتایا ہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں تہران سے اڑان بھرنے والے یوکرینی مسافر طیارے پر ملک کی فوج نے دو میزائل داغے تھے، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوئے۔
سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے میزائل کی شناخت ’ٹو او آر ایم 1‘ ماڈل کے نام سے کی ہے، جو روسی ساختہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ہیں۔
ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اور فرانسیسی ادارے بی ای اے سے تکنیکی مدد کی درخواست کی ہے، تاکہ بلیک باکس فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈرز کو پڑھا جا سکے، جو جہاز تباہ ہونے والے مقام سے برآمد کیے گئے ہیں۔
ایران نے کہا ہے کہ اب تک امریکہ یا فرانس نے ان کی درخواست کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ درخواست کا مقصد یہ تھا کہ درکار آلات میسر آ سکیں، تاکہ کام مکمل کیا جا سکے۔
ابتدائی طور پر ایران نے کہا تھا کہ تیکنیکی مسائل کی وجہ سے جیٹ طیارہ گرا تھا، جبکہ بعد میں یہ بات تسلیم کی کہ ایرانی فوجی اہلکاروں نے طیارہ مار گرایا تھا۔
اس انکشاف کے بعد ایران میں کئی روز تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے، جن میں عوام نے اپنے ملک کے رہنماؤں پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔