برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین اور دوا ساز کمپنی 'ایسٹرازینیکا' نے منگل کو ایک ریسرچ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی تیار کردہ ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔
ماہرین کی نگرانی میں کی گئی اس ریسرچ کو برطانوی میڈیکل جرنل دی لانسیٹ میں شائع کیا گیا۔
ریسرچ کے مطابق ڈیٹا سے یہ معلومات حاصل ہوئیں کہ یہ ویکسین 70.4 فی صد تک مؤثر ہے جو امریکہ کی 'فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن' (ایف ڈی اے) کی جانب سے مقرر کردہ 50 فی صد کی حد سے زیادہ ہے۔
خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی 'بائیو این ٹیک' کے اشتراک سے تیار ہونے والی ویکسین کا برطانیہ میں استعمال جاری ہے۔
دوسری جانب ایک اور امریکی کمپنی 'موڈرنا' کی تیار کردہ ویکسین امریکہ اور یورپ میں منظوری کی منتظر ہے۔
موڈرنا نے اپنی ویکسین کے 90 فی صد سے زیادہ اثر پذیر ہونے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ آکسفورڈ اور ایسٹرازینیکا کے تعاون سے بنائی جانے والی ویکسین قدرے کم قیمت اور اس کی ترسیل باقی ویکسینز سے آسان قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہوا کہ کون سی ویکسین 55 برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے زیادہ مؤثر رہے گی۔ کیوں کہ جو رضاکار تجربات سے گزرے ہیں ان میں سے صرف 12 فی صد کی عمر 56 برس سے زائد تھی۔
Your browser doesn’t support HTML5
آکسفرڈ ویکسین گروپ کے ڈائریکٹر اینڈریو پولارڈ نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا اس بات کے تعین میں ابھی وقت لگے گا کہ کون سی ویکسین زیادہ مفید ہے۔ تاہم ضروری یہ ہے کہ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے تاکہ وہ محفوظ رہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 'فائزر' اور 'موڈرنا' کے مقابلے میں آکسفرڈ اور ایسٹرازینیکا کی ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ اسے کم درجۂ حرارت پر رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور اس کی ترسیل زیادہ جلدی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں حکام ان کی ویکسین کے نتائج کو پرکھ رہے ہیں، اس دوران ان کی ویکسین پیداوار کے مراحل میں ہے۔