اقوام متحدہ کا طالبان سے خواتین پر عالمی داروں میں کام کی پابندی اٹھانے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے طالبان کے اس حالیہ حکم نامے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جس میں افغان خواتین کے افغانستان میں اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
4 اپریل کو، ایک حکم میں طالبان حکام نے جلال آباد میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی خواتین کو اپنے کام کی جگہوں پر جانے سے روک دیا تھا۔ کل انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والی افغان خواتین پر ملک گیر پابندی جاری کر دی۔
اس سے پہلے این جی اوز کے ساتھ کام کرنے والی خواتین پر پابندی عائد کی گئی تھی، جو 24 دسمبر 2022 کو جاری کی گئی تھی۔
طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خواتین اور لڑکیوں پر وسیع پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پرپابندی کی شدید مذمت کی ہے۔
افغانستان کے آزاد انسانی حقوق کمیشن (AIHRC) نے بھی ایک بیان میں طالبان کی طرف سے افغانستان میں اقوام متحدہ کے اداروں میں خواتین کو کام کرنے سے منع کرنے کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کے خصوصی ایلچی تھامس ویسٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ افغان خواتین کے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے پر پابندی کے طالبان کے پریشان کن فیصلے کی مذمت میں امریکہ اقوام متحدہ کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کھڑا ہے ۔
افغانستان میں طالبان اور داعش خراسان کے جنگجوؤں میں جھڑپیں
افغان مقامی میڈیا نے گزشتہ رات ہرات شہر میں دو الگ الگ مقامات پر طالبان فورسز اور داعش خراسان کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع دی۔
طالبان کے متعدد سوشل میڈیا کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ کل رات ہرات کے ضلع 9 میں داعش خراسان کے 2 ارکان طالبان فورسز کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے۔
تاہم طالبان حکام نے ابھی تک ان جھڑپوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
طالبان نے تین صحافیوں اور ایک کیمرہ مین کو گرفتار کر لیا
افغانستان کے صحافیوں کے مرکز نے صوبہ بغلان میں تین مقامی افغان صحافیوں اور ایک کیمرہ مین کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے،جنہیں کل طالبان نے حراست میں لیا ۔
افغانستان کے صحافیوں کے مرکز نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے بدھ کے روز شمالی بغلان صوبے کے صوبائی دارالحکومت پلِ خمری میں دو مقامی صحافیوں اور ایک کیمرہ مین کو گرفتار کیا۔
تنویر ٹی وی کے رپورٹر غلام علی وحدت، آر ٹی اے کے رپورٹر نور اللہ سادات اور آر ٹی اے کے کیمرہ مین صفی اللہ وفا کو بدھ کی صبح صوبہ باغان میں طالبان کے جی ڈی آئی میں طلب کیا گیا اور انہیں حراست میں لے لیا۔
امریکی وزیر خارجہ کی طالبان کی جانب سے افغان خواتین کی اقوام متحدہ کے ساتھ کام پر پابندی کی مذمت
امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے طالبان کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں افغان خواتین پر اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے انسانی امداد پر انحصار کرنے والے غریب افغان باشندوں کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے طالبان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغان لوگوں کوفوقیت دیں اور اس فیصلے کو واپس لیں۔
امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے بھی ایک ٹویٹ میں طالبان کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے
افغان خواتین کے لیے امریکہ کی خصوصی نمائندہ رینا امیری نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا کہ طالبان کے فیصلے سے تمام افغان باشندوں کو نقصان پہنچے گا اور اس سے معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے سے مٹانے کی کوششیں میں. یہ خواتین اقوام متحدہ کے ادارے میں اپنے ملک کے غریب شہریوں کے لیے انتہائی ضروری خدمات فراہم کر رہی تھیں جس پر پابندی سے تمام انہیں نقصان پہنچے گا اور معیشت پر شدید منفی اثر پڑے گا۔