سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل پر ایف آئی اے کو نوٹس
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
عدالت نے عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر آفس اعتراضات دور کردیے ہیں۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی کی اپیل پر بھی سماعت ہوئی جس پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کے انتخاب کے لیے سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع
اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے۔
قائدِ ایوان کے لیے پیپلز پارٹی کے سید مراد علی شاہ اور ایم کیو ایم کے علی خورشیدی مدِ مقابل ہیں۔
توشہ خانہ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر نیب کو نوٹس
اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
عدالت نے کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر جمعرات کے لیے نیب کو نوٹس جاری کیا ہے۔
سپریم کورٹ: ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے خلاف صدارتی ریفرینس پر سماعت منگل تک ملتوی
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی ہے۔
پیر کو ہونے والی سماعت میں عدالتی معاونین خالد جاوید اور صلاح الدین نے اپنے دلائل مکمل کیے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ نے ریفرینس کی سماعت کی۔
عدالتی معاون خالد جاوید خان نے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی۔ بھٹو اپیل پر سپریم کورٹ میں جس عدالتی بنچ نے کیس سنا اس میں ایڈہاک ججز بھی شامل تھے۔
عدالتی معاون خالد جاوید خان کا کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔ سپریم کورٹ اس حد تک ضرور قرار دے سکتی ہے کہ بھٹو کیس غلط طریقے سے چلایا گیا۔
عدالتی معاون بیرسٹر صلاح الدین نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالتیں پہلے فیصلوں کو اکثر بدلتی رہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عدالت کیا آرٹیکل 186 تین کے دائرہ اختیارمیں یہ کر سکتی ہے؟
بیرسٹرصلاح الدین کا بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے نہیں مگر پرنسپل آف لا کی دوبارہ تعریف ہو سکتی ہے۔ 2013 میں ججوں کی تعیناتی کیس میں بھی سپریم کورٹ پاکستان کا فیصلہ موجود ہے۔
چیف جسٹس نے منگل کی سماعت کے لیے حکم نامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ کل ہم اس معاملے کو فوج داری پہلو سے سنیں گے۔