اسرائیل کی جانب سے شدید بمباری اور غزہ کی ناکہ بندی سے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والے عسکری گروپ حماس کا خاتمہ ہے، یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ 23 لاکھ فلسطینی جنوب میں واقع سینائی میں جانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
بلوچستان میں اس سال بھی مون سون کی بارشوں سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ خاران اور واشک کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں سینکڑوں مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ ان علاقوں میں گندم، پیاز اور کھجور کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تفصیلات بتا رہے ہیں مرتضیٰ زہری۔
سندھ میں سیلاب متاثرین جو گزشتہ آٹھ ماہ سے امداد کے منتظر ہیں عید کیسے منائیں گے؟ وائس آف امریکہ کی سدرہ ڈار جو ان متاثرہ علاقوں کا مسلسل دورہ کرتی رہی ہیں، اس ویڈیو میں تفصیلات بتا رہی ہیں۔
پاکستان کے صوبے سندھ میں آٹھ ماہ قبل آنے والے سیلاب متاثرین کی اب تک مکمل بحالی نہیں ہو سکی ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی تاخیر کا شکار کیوں ہے؟ جانیے سدرہ ڈار اور خلیل احمد کی اس رپورٹ میں۔
دریائے سوات میں طغیانی سے بحرین کالام شاہراہ کئی مقامات پر زیر آب آگئی ہے اور ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔ سوات کی مرکزی شاہراہ بند ہونے سے سبزی کی تیار فصل کی مارکیٹ تک رسائی بھی ختم ہوگئی ہے۔ تازہ ترین صورتحال بتارہے ہیں سوات سے فیاض ظفر
پاکستان کے صوبے سندھ کا 'پونو گاؤں' ماحول دوست طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس گاؤں کے باسی خود انحصاری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پونو گاؤں میں موجود اسمارٹ گھر کس طرح بنائے گئے ہیں؟ تفصیلات جانیے سارہ زمان کی اس رپورٹ میں۔
پاکستان میں گزشتہ برس آنے والے سیلاب سے لگ بھگ تین کروڑ 80 لاکھ کی آبادی متاثر ہوئی تھی۔ سندھ کے جنوبی حصے میں آج بھی سیلاب متاثرین خیموں میں پناہ گزین ہیں۔ سیلاب کے تقریباً ایک برس بعد متاثرین کس حال میں ہیں؟ بتا رہی ہیں سارہ زمان اپنی اس رپورٹ میں۔
اقوامِ متحدہ کے پانی سے متعلق اجلاس میں سمندر اور ماحولیاتی امور کی امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری مونیکا مدینا بھی موجود تھیں۔ انہوں نے وی او اے کے نمائندے آنشومن آپٹے سے بات چیت میں بتایا کہ حکومتِ پاکستان کا 'لونگ انڈس' پروگرام بہت اہم ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پانی سے متعلق اجلاس میں یونیسیف کے واٹر سینیٹیشن اینڈ ہائجین ایمرجنسی پروگرام کے سینئر ایڈوائزر عمر الحطاب نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے اپیل 17 کروڑ ڈالر کی تھی جس کا 50 فی صد سے کم اکٹھا ہوا ہے۔ مزید تفصیل اس ویڈیو میں۔
پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادل نے کہا کہ ممکنہ طور پر سیلاب کے بعد سے صورتِ حال مزید خراب ہوئی ہے جس سے بہت سے بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔
گزشتہ سیلاب کا پانی سندھ کے گیارہ اضلاع میں اب بھی کھڑا ہے اور لوگوں کو شکایت ہے کہ نہ انھیں امداد فراہم کی گئی اور نہ ہی انفراسٹرکچر کی بحالی پر کام ہوا ہے۔ تفصیلات بتارہی ہیں کراچی سے سدرہ ڈار اس ویڈیو میں
ہم اب گوٹھ کوٹھی کلہوڑو میں داخل ہوچکے تھے گاڑی سے اترتے وقت میرے کانوں میں جو پہلی آواز پڑی وہ اسکول میں پڑھائے جانے والے سبق کی تھی جسے بچے با آواز بلند ایک ساتھ دہرا رہے تھے۔ مجھے اپنے اسکول کا وقت یاد آگیا۔ تقریباً 50 قدم کے فاصلے پر یہ اسکول تھا جس میں داخل ہوتے ہی مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔
مزید لوڈ کریں