رسائی کے لنکس

چین میں ایغور مسلمانوں کے بعد اب آٹسلز مسلمان زیرِ عتاب


سنکیانگ میں مسلمانوں کے لیے ایک 'اصلاحی مرکز'، ان مراکز میں انہیں اپنے عقائد چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
سنکیانگ میں مسلمانوں کے لیے ایک 'اصلاحی مرکز'، ان مراکز میں انہیں اپنے عقائد چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے بعد، اب چین کی حکومت ملک کے دور دراز جنوبی صوبے ہنان میں آٹسلز نامی سنی مسلمانوں کو اپنے طور طریقوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تا کہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکے۔

ہنان ایک گرم مرطوب آب و ہوا کا حامل جزیرہ ہے، جہاں سنی مسلمانوں کی تقریباً دس ہزار نفوس پر مشتمل آبادی رہتی ہے۔

چین میں چینی طور طریقوں کے مطابق ڈھالنے کے عمل کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح، سینی سائزیشن کہلاتی ہے، جسے امریکہ نے نسل کشی کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس عمل کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔

چین نہ صرف مسلمانوں سے یہ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے، بلکہ چین کے مسیحی اور بودھ مت کے پیروکار بھی اسی عمل سے گزر رہے ہیں۔ آٹسلز مسلمانوں کے خلاف جاری حالیہ مہم کا مقصد یہ ہے کہ سی سی پی کے نظریات، ملک میں تمام مذاہب کے عقائد پر غالب آئیں۔

ایک مسلمان سیاسی مبصر، گُو یی نے وائس امریکہ کی مینڈرین سروس کو بتایا کہ سی سی پی کی اسلام کے خلاف سنی سائزیشن کی مہم کا مقصد ملک سے اسلامی ثقافت کو ختم کرنا ہے۔

'جب سے چین نے سن 2018 میں، سنی سائزیشن آف اسلام نامی مہم میں شدت پیدا کی، تب سے مقامی حکومتوں نے مخصوص احکامات جاری کئے، جن میں اسلامی سکولوں کی بندش، مساجد پر لازمی قومی پرچم لہرانا،اسلامی عمارات کو ختم کرنا اور تحریر کئے گئے حلال الفاظ کو مٹانا شامل ہے'۔

مقامی حکومتوں نے 18 سال سے کم عمر کے بچوں مساجد میں تعلیم پر بھی پابندی عائد کی ہے، اور مسلمانوں پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ اپنی شناخت اور پتہ سرکاری محکموں میں درج کروائیں۔

حکام نے، اذان کیلئے استعمال ہونے والے لاؤڈ سپیکرز اور سی سی پی کے غیر منظور شدہ پروگراموں کیلئے استعمال ہونے والی مائیکرو ریڈیو نشریات پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

مسلمان سیاسی مبصر، گُو یی کہتے ہیں کہ ان اقدامات سے چین کے اقلیتی گروپ کو ایک پر سکون اور اطاعت گزار اقلیت بنانا ہے۔ گو یی کہتے ہیں کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ثقافتی اور قومی روایت بھی ہے۔ مسلمانوں کے بہت سے رسوم و رواج اور نفسیاتی شناخت کو اسلام سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

چینی مسلمان خواتین ایک اصلاحی مرکز میں ۔
چینی مسلمان خواتین ایک اصلاحی مرکز میں ۔

زیادہ تر آٹسلز، ساحلی شہر سنئیا میں آباد ہیں اور یہ چامک زبان بولتے ہیں جو کہ ویتنام اور کمبوڈیا میں بولی جانے والی زبانوں سے قریبی مماثلت رکھتی ہے، کیونکہ یہ لوگ صدیوں پہلے انہی ممالک سے نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہوئے تھے۔

آٹسلز کو ہنان ہوئی بھی کہا جاتا ہے، اور یہ چین کے اُن چند غیر تسلیم شدہ نسلی گروپوں میں سے ایک ہے، جس کے معنی ہیں کہ سی سی پی انہیں ایک بڑی نوع آبادی کی مہم کے ساتھ جوڑتی ہے۔

اخبار دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق، سنئیا کی آٹسلز برادری نے چین کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ یہ دیگر چینی مسلمانوں کیلئے ایک پر فضا سیاحتی مقام ہے، اور اس برادری نے جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں سے روابط کیلئے ایک پل کا کام کیا ہے۔

چین کی مائیکرو بلاگنگ سائٹ وِیبو کے مطابق، آٹسلز کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ سن 2019 میں اس وقت شروع ہوا، جب مقامی حکومت اور سی سی پی کے عہدیداروں نے 'ورک پلان فار سٹرینتھننگ دی کمپری ہنسو گورنینس آف ہیوژن کمیونٹی اینڈ ھوھوئی کمیونٹی کا اجرا کیا۔

چین میں' بِٹر وِنٹڑر'نامی مذاہب پر نظر رکھنے والی ایک آن لائن اشاعتی سائٹ کا کہنا ہے کہ اس جامع پکڑ دھکڑ کیلئے اس ورک پلان میں چھ پہلوؤں کا ذکر ملتا ہے، جن میں نظم و ضبط، کمیونٹی، علامات اورآثار، سکولوں اور اسپتالوں کی درستی، لازم فنانشل آڈٹ، اور غیر قانونی عمارات کے انہدام اور کسی اور مقام پر ان کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔

اِن پہلوؤں کا مطلب ہے کہ خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی ہے، اور مساجد کی نگراں کمیٹیوں میں اب سی سی پی کے ارکان کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ عربی تحریر میں مذہبی اقتباسات، نماز کیلئے مکہ کی جانب رخ کرنے جیسی ہدایات اور مذہبی تحریروں کو سی سی پی کے نعروں سے ڈھانپا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG