رسائی کے لنکس

چین اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، سرحدی معاملات کے فوری حل پر اتفاق


لاؤس میں آسیان گروپ کے اجلاس کا ایک منظر۔ اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے سرحدی تنازعات تیزی سے حل کرنے پر اتفاق کیا ۔ 25 جولائی 2024
لاؤس میں آسیان گروپ کے اجلاس کا ایک منظر۔ اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے سرحدی تنازعات تیزی سے حل کرنے پر اتفاق کیا ۔ 25 جولائی 2024
  • چین اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات آسیان کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔
  • بھارت اور چین کے درمیان دنیا کے سب سے بلند پہاڑی سلسلے ہمالیہ میں طویل مشترکہ سرحد ہے۔
  • سرحد کے ساتھ کئی علاقوں پر دونوں ملک دعویدار ہیں، جس پر ان کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔
  • سب سے بڑی اور خون ریز جھڑپ 1962 میں لداخ کے ریجن نیفا میں ہوئی تھی
  • 2020 میں ایک سرحدی جھڑپ میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری چلی آ رہی ہے۔

ویب ڈیسک۔۔۔بھارت کے وزیرخارجہ سبرامنیم جے شنکر نے جمعرات کو لاؤس میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں دونوں عہدے داروں نے اپنے سرحدی مسائل جلد از جلد حل کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان ہمالیائی سلسلے میں ایک طویل سرحد ہے جس کے کئی حصوں پر سرحد کی واضح نشاندہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ملکیت کے حوالے سے اکثر تنازعات اٹھتے رہتے ہیں۔

جولائی 2020 میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپ کے بعد سے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔

اس جھڑپ میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ جے شنکر نے لاؤس میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے گروپ آسیان کے سربراہی اجلاس کے موقع پر الگ سے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔

لاؤس میں آسیان کانفرنس کے موقع پر اس گروپ میں شریک ممالک کے پرچم لہرا رہے ہیں۔ 24 جولائی 2024
لاؤس میں آسیان کانفرنس کے موقع پر اس گروپ میں شریک ممالک کے پرچم لہرا رہے ہیں۔ 24 جولائی 2024

اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان تین ہفتے قبل قزاقستان کے صدر مقام آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔

جے شنکر نے مختصر پیغام رسانی کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ہم نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول اور ماضی کے معاہدوں کے مکمل احترام کو یقینی بنانے اور اس سلسلے میں منقطع ہونے والے عمل کی تکمیل کے لیے رہنمائی فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

قازقستان میں اس سے قبل ہونے والی ملاقات میں وانگ نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو دوسرے شعبوں میں معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر کے سرحدی علاقوں کی صورت حال سے نمٹنا چاہیے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک نے چار سال قبل فوجی جھڑپ کے بعد سرحد پر اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرتے ہوئے وہاں مزید فوجی دستے اور فوجی ساز و سامان پہنچا دیا ہے۔

اس سے قبل 1962 میں دونوں ملکوں کے درمیان خونریز جنگ ہو چکی ہے جس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری چلی آ رہی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے بامقصد اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جے شنکر کا مزید کہنا تھا کہ سرحد کی صورت حال کا اظہار لازمی طور پر ہمارے ملکوں کے درمیان تعلقات کی شکل میں سامنے آئے گا۔

(اس رپورٹ کی معلومات رائٹرز سے لی گئیں ہیں)

فورم

XS
SM
MD
LG