رسائی کے لنکس

امریکی پابندیوں کے جواب میں روس نے بھی 10 امریکی سفارت کار نکالنے کا اعلان کر دیا


ماسکو میں امریکی سفارتخانے کا منظر ، فوٹو رائٹرز
ماسکو میں امریکی سفارتخانے کا منظر ، فوٹو رائٹرز

بائیڈن نے بتایا کہ انہوں نے منگل کے روز ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں صدر پوٹن کو بتایا ہے کہ انہوں نے روس پر ابھی سخت پابندیاں عائد نہیں کیں اور یہ کہ انہوں نے صدر پوٹن کو موسم گرما میں کسی تیسرے ملک میں ملاقات کی تجویز پیش کی ہے۔

روس نے امریکہ کی طرف سے نئی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے جمعے کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ کے دس سفارتکاروں کو ملک بدر کر دے گا اور واشنگٹن کے خلاف دیگر جوابی اقدامات بھی کرے گا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو امریکہ کے آٹھ عہدیداروں کو اپنی اس فہرست میں شامل کرے گا جن پر اس نے پابندی عائد کر رکھی ہے اور ان امریکی تنظیموں کو بند کر دے گا جو روس میں موجود ہیں اور ان کے بقول روس کی سیاست میں مداخلت کر رہی ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ کریملن نے تجویز کیا ہے کہ امریکی سفیر جان سولیون بھی اپنے روسی ہم منصب کی طرح مشاورت کے لیے اپنے ملک واپس چلے جائیں۔ روس امریکی سفارتخانے کے لیے اپنے عملے میں روسی شہریوں یا کسی تیسرے ملک سے عملہ رکھنے کی اجازت نہ دینے، امریکی سفارت کاروں کے روس میں سفارتخانے میں کم مدت کے دوروں کو محدود کرنے اور ملک کے اندر سفر کے لیے شرائط کو سخت بنانے کے لیے بھی اقدامات کرے گا۔

بائیڈن انتظامیہ نے جمعرات کو امریکہ کے 2020 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کرنے اور امریکہ کے وفاقی اداروں پر حالیہ سائبر حملوں کو بنیاد بناتے ہوئے روس پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ روس ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔ امریکہ نے روس کے دس سفارتکاروں کو نکالنے کا حکم دیا ہے، روس کی کئی کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، اور روس کے قرضہ لینے کی اہلیت پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس روسی معیشت کو کمزور کرنے کی طاقت موجود ہے، اور باوجود اس کے کہ روس دنیا بھر میں امریکی مفادات کو کئی طریقوں سے زک پہنچا سکتا ہے، ماسکو کے پاس اس نوعیت کا جواب دینے کی اہلیت نہیں۔

روسی وزیرخارجہ نے امریکی اقدام کو غیر دوستانہ اور بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ روس بھی اپنے ملک کے اندر امریکی کاروباروں کے مفادات کے لیے ’تکلیف دہ‘ اقدامات کر سکتا ہے لیکن وہ فوری طور پر ایسا نہیں کرے گا اور ان اقدامات کو مستقبل کے لیے بچا کر رکھے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے مزید دباؤ بڑھایا تو روس امریکہ سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے سفارتخانے اور قونصل خانوں میں سفارتی عملے کی تعداد ساڑھے چار سو سے کم کر کے تین سو تک لے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ روس اور امریکہ نے ایک دوسرے کے ملک میں ساڑھے چار سو سفارتکار تعینات کر رکھے ہیں تاہم روس کے عملے میں اقوام متحدہ کے عملے کے ایک سو پچاس افراد بھی شامل ہیں جو وزیرخارجہ لارووف کے بقول، روس کے عملے میں شمار نہیں ہونے چاہئیں۔

سرد جنگ کے زمانے میں بین الاقوامی اثرورسوخ کے لیے امریکہ کا مقابلہ کرنے والے متحدہ سوویت یونین کے مقابلے میں آج کے روس کے پاس اس درجے کی معاشی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ نہیں ہے لیکن روس کے جوہری ہتھیار اور دنیا کے کئی خطوں میں اس کا اثر اب بھی اس کو دنیا کی ایک بڑی قوت بناتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، صدر بائیڈن نے اسی چیز کا ادراک کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے اور انہوں نے کئی شعبوں میں روس کے ساتھ تعاون کے لیے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ بائیڈن نے بتایا کہ انہوں نے منگل کے روز ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں صدر پوٹن کو بتایا ہے کہ انہوں نے روس پر ابھی سخت پابندیاں عائد نہیں کیں اور یہ کہ انہوں نے صدر پوٹن کو موسم گرما میں کسی تیسرے ملک ملاقات کی تجویز پیش کی ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے کہا تھا کہ روس اور امریکہ کے درمیان کسی سربراہ ملاقات کی تجویز پر روس کا "رویہ مثبت" ہے اور وہ اس پیشکش کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس کے کچھ دیر بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کی پیشکش کا "بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں جائزہ لیا جا رہا ہے"۔

XS
SM
MD
LG