|
پاکستان اور دنیا کے کئی دوسرے ملکوں کی طرح امریکہ کے کئی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جن میں کیلی فورنیا، نیواڈا، ایریزونا، اوریگان، ایڈاہو، الاباما اور مسیسیپی کی ریاستیں شامل ہیں۔ گرمی کی شدت کے باعث امریکہ میں کئی اموات بھی ہو چکی ہیں۔
امریکہ میں جون کے مہینے میں اس وقت درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوا جب یورپ سمیت دنیا کے کئی علاقے بھی گرمی کی لہر کا ہدف بننا شروع ہوئے تھے۔
اس سال جون، مسلسل 13 واں ایسا مہینہ تھا، جس میں ہر سال، گرمی کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ اس سال جون کا درجہ حرارت صنعتی دور کے آغاز کے وقت کے درجہ حرارت سے ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ یعنی دو اعشاریہ سات ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کو شدید موسمی طوفانوں، خشک سالی اور قحط سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پایا جائے۔بصورت دیگر زمین ہر طرح کی حیات کے لیے مشکل ہوتی جائے گی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی مغربی ریاستیں اور بحرالکاہل کے شمال مشرق میں واقع درجوں مقامات پر درجہ حرارت کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
امریکہ کے جن علاقوں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے ان میں ریاست کیلی فورنیا کا صحرا ڈیتھ ویلی بھی شامل ہے جہاں ہفتے اور اتوار کے روز 53 اعشاریہ 3 ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 128 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
دنیا کے بلند ترین درجہ حرارت کا ریکارڈ بھی ڈیتھ ویلی کا ہے۔ یہ ریکارڈ جولائی 1913 میں قائم ہوا تھا جو 134 درجے فارن ہائیٹ یعنی 56 اعشاریہ 7 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔جولائی اس وادی کے لیے گرم ترین مہینہ رہا ہے۔ 2021 کے جولائی میں بھی وہاں 130 درجے فارن ہائیٹ ٹمپریچر ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس سال یہ 132 پر پہنچ گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس علاقے کا نام ڈیتھ ویلی یعنی ’وادی موت‘ کی وجہ یہاں کا درجہ حرارت نہیں بلکہ اس کا تعلق سونے کی تلاش سے ہے، اور اس وادی کو یہ نام بھی گرمیوں میں نہیں بلکہ سردیوں کے موسم میں دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ ہے 1849 کا۔ اس دور میں کیلی فورنیا کے کچھ علاقوں سے سونا نکلتا تھا اور دور دراز سے لوگ سونا ڈھونڈنے کے لیے آتے تھے۔ 1849 کے موسم سرما میں کچھ یورپی نژاد امریکی سونے کی تلاش میں کیلی فورنیا جا رہے تھے تو انہوں نے شارٹ کٹ کے لیے ڈیتھ ویلی کا راستہ اختیار کیا اور پھر راستہ بھول کر صحرائی وادی میں مارے مارے پھرنے لگے۔ انہیں بمشکل باہر نکلنے کا راستہ ملا، لیکن اس دوران ان کا ایک ساتھی ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے اپنے سفر کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اسے ڈیتھ ویلی کہا، جس کے بعد لوگون نے بھی اسے ڈیتھ ویلی کہنا شروع کر دیا۔
اب ذرا بات پاکستان کی بھی ہو جائے۔ پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں عموماً سبی اور جیکب آباد کا نام لیا جاتا ہے۔ ملتان کے بارے میں بھی ایک کہاوت ہے کہ وہاں گرمیوں میں سورج سوا نیزے پر آ جاتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ علاقے دوسرے ہیں جہاں گرمیوں کے سورج نے اپنے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔
پاکستان میں سب سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ ساحلی شہر تربت کا ہے۔ وہاں یہ ریکارڈ 28 مئی2017 کو قائم ہوا تھا۔ اس روز وہاں کا درجہ حرارت 54 ڈگری سینٹی گریڈ یعنی 129 اعشاریہ 2 ڈگری فارن ہائیٹ تک گیا تھا۔ یہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ ایشیا کے بھی بلندترین درجہ حرارت کا ریکارڈ ہے۔
اس فہرست میں دوسرا نمبر قدیم آثار قدیمہ کی شہرت رکھنے والے سندھ کے قصبے موہن جو ڈارو کا ہے جہاں کا ریکارڈ 53 اعشاریہ 5 ڈگری سینٹی گریڈ ( 128 اعشاریہ 3 فارن ہائیٹ) ہے۔ یہ بھی ایشیا کا دوسرا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔
ہر سال گرمی کی لہریں انسانی زندگیوں کا خراج لے کر جاتی ہیں۔ سن 2021 میں سن 2000 سے 2019 کے عرصے پر محیط ایک مطالعاتی جائزے میں کہا گیا تھا کہ ہر سال دنیا بھر 490000 افراد کی موت کا سبب گرمی بنتی ہے۔ جن میں سے 45 فی صد ہلاکتیں ایشیا اور 36 فی صد یورپ میں ہوتی ہیں۔
این بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال حج کے موقع پر سعودی عرب میں درجہ حرارت 120 درجے فارن ہائیٹ کے لگ بھگ رہا۔ بلند درجہ حرارت کے نتیجے میں وہاں فریضہ حج کے آئے ہوئے 1300 سے زیادہ حاجی ہلاک ہو گئے۔
اگرچہ امریکہ کی متعدد ریاستوں میں شدید گرمی پڑتی ہے لیکن یہاں گرمی سے اموات کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ امریکہ کے بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال گرمی سے منسلک واقعات میں 2300 سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ گزشتہ 45 برسوں کے ریکارڈ میں یہ ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اس سے قبل گرمی کی لہر کے باعث 1200 کے لگ بھگ ہلاکتیں ہی ریکارڈ میں آتی رہی ہیں۔
ماحولیات سے متعلق نیویارک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں تقریباً 350 اموات کا سبب شدید گرمی بنتی ہے۔ ریاست اوریگان سے ملنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی حالیہ لہر میں اب تک چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کیلی فورنیا کے صحرائی علاقے ڈیتھ ویلی میں ایک موٹر سائیکل سوار کی ہلاکت کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گرمی سے متاثر شخص کو بچانے کے لیے ایمرجینسی ہیلی کاپٹر نہیں بھیجا جا سکا کیونکہ 120 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ درجہ حرارت پر ہیلی کاپٹر کا اڑانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا، کیونکہ ہوا ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ وزن سہارنے کے قابل نہیں رہتی۔
نیشنل پارک کے عہدے داروں نے ڈیتھ ویلی کی سیاحت کرنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گرمی سے بچاؤ کے انتظام کے ساتھ آئیں۔ یہ بات بھی شاید آپ کو دلچسپ لگے کہ گرمیوں کے موسم میں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ڈیتھ ویلی کی سیاحت پر جاتی ہے کیونکہ وہاں سورج کے طلوع اور غروب ہونے کا منظر انتہائی دلکش اور سحرانگیز ہوتا ہے۔
فورم