رسائی کے لنکس

توہینِ مذہب کے مجرم کی سزا پوری ہونے پر رہائی کا حکم


(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزا پانے والے مجرم ثقلین ریحان کو سزا پوری ہونے پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ تاہم عدالت نے مجرم کی جرمانہ معاف کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں 24 نومبر 2015 کو انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر فیس بک پر پوسٹ کرنے کے الزام میں ثقلین ریحان کو 13 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

چینیوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد ثقلین کو اکتوبر 2015 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب محکمہ انسداد دہشت گردی کی انٹیلی جنس رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر نفرت انگیز مواد پوسٹ کیا جا رہا ہے۔ محمد ثقلین کا تعلق فقۂ جعفریہ سے ہے۔

ملزم پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 980-A اور 11-W کے تحت فرقہ ورانہ نفرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر توہین مذہب کے قوانین کی شق 298-A کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

جرم ثابت ہونے پر ثقلین کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے قید کی سزا سنائی اور ان پر ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

ملزم نے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا لیکن عدالت عالیہ نے ملزم کی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں ملزم کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ کسی عام شخص کے خلاف بھی کسی کو فیس بک پر لکھنے کا حق نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام کے بارے میں تو کوئی بات قابل برداشت ہو ہی نہیں سکتی۔

دوران سماعت ملزم کے وکیل نے بتایا کہ جس اکاؤنٹ سے پوسٹ ہوئی وہ میرے موکل کا نہیں ہے۔ ملزم کے وکیل نے جرمانے کی رقم معاف کرنے کی استدعا کی۔ جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔ جسٹس قاضی امین نے کہا پانچ سال ریاست نے کھلایا پلایا اب جرمانہ ادا کریں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسی تقریر، تحریر یا سوشل میڈیا پر پوسٹ جس سے فرقہ ورانہ منافرت، مسلک کو نشانہ بنانا یا مقدس ہستیوں کی تضحیک کو دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ نو کے تحت قابل گرفت جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان مقدمات کا اندراج انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) کے تھانوں میں ہوتا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں ایسے کیسز کی سماعت کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG