بلوچستان میں جدید بلڈ بینک قائم کیے جارہے ہیں

کوئٹہ میں نئے بلڈ بینک کی عمارت

سیکرٹری صحت انوارالحق بلوچ نے بتایا کہ کو ئٹہ کے مرکز میں جدید مشینر ی نصب کر دی گئی ہے جس کی مدد سے صاف خو ن کے 50 ہزار تھیلے پانچ سال تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔

ستارکاکٹر

بلوچستان کی حکومت نے صوبے میں دهشت گر دی، تشدد اور دیگر واقعا ت میں زخمی ہونے والے افراد کو صاف اور صحت بخش خون فراہم کرنے کے منصوبے کا آغاز کردیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں جرمن حکومت کے تعاون سے ایک مرکز کے قیام کے بعد اب لورالائی اور تر بت میں بھی اس طرح کے مرا کز قائم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں ۔

وائس اف امر یکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری صحت انوارالحق بلوچ نے بتایا کہ کو ئٹہ کے مرکز میں جدید مشینر ی نصب کر دی گئی ہے جس کی مدد سے صاف خو ن کے 50 ہزار تھیلے پانچ سال تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں نصب آلات کی مدد سے ہم ہیپا ٹائٹس بی ،سی ملیر یا اور ایچ ائی وی ایڈز کا ٹیسٹ کر سکتے ہیں جن کے نتائج کی درستگی کا تناسب 99 فی صد سے زیادہ ہے۔

بلڈ بینک میں جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اس مرکز کے قیام اور خون کا ذخیرہ محفوظ رکھنے کے انتظامات کے بعد اب ہم خون کے عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کررہے ہیں جس کے لیے ہم لوگ یونیورسٹی کالجز اور سیکرٹریٹ میں کیمپ لگائیں گے۔

ادارے کے پر اجیکٹ ڈائر یکٹر پر وفیسر ندیم صمد کا کہنا ہے کہ ہم شہریوں حوصلہ افزائی کررہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ خون کے عطیات دیں۔

کو ئٹہ کے شہر یوں نے خون جمع کرنے کےلئے ادارے کے قیام کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کے مر کز صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی جلد قائم کئے جائیں ۔

بلوچستان میں رواں سال کے دوران کئی مہلک واقعات پیش آئے ہیں۔