رسائی کے لنکس

پیرس اولمپکس: اسرائیلی کھلاڑیوں کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کرنے کا اعلان


فائل فوٹو
فائل فوٹو
  • پیرس اولمپکس میں اسرائیل کے 88 ایتھلیٹس جب کہ آٹھ فلسطینی شریک ہو رہے ہیں۔
  • فرانس کے بائیں بازو کی جماعت کی جانب سے اسرائیلی کھلاڑیوں کی کھیلوں میں شرکت پر تنقید اور احتجاج پر زور دیا گیا ہے۔
  • فرانسیسی وزیرِ داخلہ نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو مسلسل سیکیورٹی کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔
  • پیرس اولمپکس میں اسرائیلی وفد کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں: فرانسیسی وزیرِ خارجہ

فرانس کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ پیرس اولمپکس کے دوران اسرائیل کے کھلاڑیوں کو 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فرانس میں انتہائی بائیں بازو کے قانون سازوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے کھلاڑیوں کو خوش آمدید نہیں کیا جائے گا اور ان کی اولمپکس مقابلوں میں موجودگی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

فرانس کے شہر پیرس میں اولمپکس کا آغاز جمعے سے ہو رہا ہے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ یوکرین اور غزہ میں جاری جنگیں ہیں۔

’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کے سبب غزہ میں شدید تباہی ہو چکی ہے جسے فرانس میں بائیں بازو کے سیاسی حلقے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جب کہ بعض حلقے فلسطینیوں کے حامیوں پر یہود دشمنی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ جیرالڈ دارمینن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں میں اسرائیل کے کھلاڑیوں کو مسلسل سیکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

خیال رہے کہ 52 برس قبل جرمنی کے شہر میونخ میں اولمپکس مقابلوں کے دوران فلسطینی عسکریت پسندوں نے اسرائیل کے کھلاڑیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 11 اسرائیلی ایتھلیٹ ہلاک ہوئے تھے۔

فرانس کے شہر پیرس میں 26 جولائی سے 11 اگست تک جاری رہنے والے اولمپکس مقابلوں میں اسرائیل کے 88 افراد کا دستہ شرکت کر رہا ہے جو 15 مختلف کھیلوں میں حصہ لے گا جب کہ آٹھ فلسطینی بھی ان مقابلوں میں شرکت کے لیے پیرس میں موجود ہیں۔

اسرائیلی ایتھلیٹس کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق فرانسیسی وزیرِ داخلہ کا بیان بائیں بازو کی جماعت ’فرانس ان بوڈ‘ سے تعلق رکھنے والے قانون ساز تھامس پورٹس کے ایک ویڈیو بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

تھامس پورٹس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ایتھلیٹس کا فرانس میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔ ان کی کھیلوں میں موجودگی پر احتجاج کیا جانا چاہیے۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ اسٹیفن شیزنی نے پیر کو بیلاروس میں یورپی وزرا سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ فرانس کی طرف سے پیرس اولمپکس میں اسرائیلی وفد کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا اسرائیلی ہم منصب سے رابطہ بھی ہوا ہے اور انہیں اسرائیلی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

فرانس کے بعض سیاست دان تھامس پورٹس کے بیان کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ سینئر سیاست دان مانوئیل بومپرڈ کا سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ تھامس پورٹس کے بیان کی حمایت کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس لیے یہ جائز مطالبہ ہے کہ اسرائیلی کھلاڑیوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کسی غیر جانب دار پرچم تلے اولمپکس میں شریک ہوں۔

اسرائیل کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی تردید کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں کی اولمپکس کمیٹی نے بھی پیر کو انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے صدر کو ارسال کیے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اولمپکس مقابلوں سے خارج کیا جائے۔

کمیٹی کے اس خط میں اسرائیل پر اولمپک میں جنگ بندی کی روایت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق فلسطینیوں کی اولمپکس کمیٹی کے خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں 400 فلسطینی ایتھلیٹ ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ کھیل کے املاک کی تباہی سے کھلاڑیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی اولمپک کمیٹی کی صدر یائیل اراد نے اسرائیل کے 88 کھلاڑیوں کی اولمپکس میں شرکت کو ایک کامیابی قراد دیا ہے۔

اسرائیل سے کھلاڑیوں کی روانگی پر بن گورین ایئرپورٹ پر یائیل اراد کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ہماری کامیابی ہے اسرائیل کے کھلاڑی اولمپکس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ ہم نے شکست تسلیم نہیں کی اور سات اکتوبر 2023 کے بعد کئی مقابلوں کا انعقاد کیا۔

واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق لگ بھگ 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ حماس نے ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں سو سے زائد اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔

غزہ پر حماس کے حملے کے فوری بعد اسرائیل نے اعلانِ جنگ کیا تھا۔ ساڑھے نو ماہ سے جاری اس جنگ میں غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام محکمۂ صحت کے مطابق 38 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

اس رپورٹ میں خبر رساں اداروں ’رائٹرز‘ اور ’اے ایف پی‘ سے معلومات شامل کی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG