رسائی کے لنکس

بھارت کا ایک اور اہم خلائی تجرباتی مشن لانچ کر دیا گیا


بھارت کے دو سیٹلائٹس لیجانے والے PSLV-C59 کی لانچ کا ایک منظر۔ 5 دسمبر 2024.
بھارت کے دو سیٹلائٹس لیجانے والے PSLV-C59 کی لانچ کا ایک منظر۔ 5 دسمبر 2024.

  • ڈاکنگ کو ملک کے خلائی اسٹیشن اور انسان بردار چاند مشن کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔
  • بھارت 2040 تک چاند پر انسان بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
  • اس تجربے میں، ادارے کے مطابق، دو چھوٹے جہازوں کا ایک مقام پر لے جا کر ٹھہرانا اور وہاں سے روانہ کرنا شامل ہیں۔
  • گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے اپنے خلائی پروگرام کے سائز اور رفتار میں کافی حد تک اپنے خلائی سفر کو آگے بڑھایا ہے۔
  • اگست 2023 میں بھارت تین دوسرے ممالک، روس، امریکہ اور چین کے بعد چاند پر بغیر پائلٹ کا جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا تھا۔

بھارت نے پیر کو ایک راکٹ لانچ کیا جس میں دو چھوٹے جہاز خلا میں ڈاکنگ کرنے یعنی ایک ہی جگہ پر اکٹھے کرنے اور ملانے کا تجربہ کیا جائے گا۔

ڈاکنگ کو ملک کے خلائی اسٹیشن اور انسان بردار چاند مشن کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں بھارت کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر جیتندر سنگھ نے لانچ سے قبل کہا یہ مشن "بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے اہم ہے۔"

ملک کے خلائی تحقیق کے ادارے "انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن" نے اس راکٹ لانچ کو براہ راست نشر کیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ بھارت 2040 تک چاند پر انسان بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

راکٹ، جسے PSLV-C60 کا نام دیا گیا ہے، پیر کی شام سری ہری کوٹا لانچ سائٹ سے خلا میں بھیجا گیا ہے۔

اس میں دو 220 کلوگرام کے سیٹلائٹ شامل تھے۔

بھارتی خلائی ادارے نے اس مشن کو "اسپیس ڈاکنگ ایکسپیری منٹ" کا نام دیا ہے۔

خلائی ادارے نے کہا کہ مشن کا مقصد "ترقی کرنا اور اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنا ہے جس کی خلائی سفر میں ضرورت ہوتی ہے۔"

اس تجربے میں، ادارے کے مطابق، دو چھوٹے جہازوں کا ایک مقام پر لے جا کر ٹھہرانا اور وہاں سے روانہ کرنا شامل ہیں۔

ادارے نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا حصول بھارت کے چاند پر بھیجے جانے والے منصوبے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے انسان کے خلائی مشن اور سیٹیلائٹ سروس مشن کا ایک اہم حصہ ہے۔

اس تجربے میں 28,800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے گرد چکر لگانے والے مصنوعی سیاروں کو ایک جگہ لانا شامل ہو گا۔

بھارتی خلائی ادارے نے کہا کہ ان مصنوعی سیاروں کو خلا میں ایک اکائی میں ضم کرنے کے لیے ان کی متعلقہ رفتار 0.036 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کم کی جائے گی۔

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت کا خلائی پروگرام نسبتاً کم بجٹ کا ہے۔

تاہم، یہ پروگرام عالمی خلائی طاقتوں کے طے کردہ سنگ میل کو تیزی سے پورا کر رہا ہے۔

روس، امریکہ اور چین کے بعد بھارت اس مشن کے ساتھ خلائی ڈاکنگ ٹیکنالوجی رکھنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے اپنے خلائی پروگرام کے سائز اور رفتار میں کافی حد تک اپنے خلائی سفر کو آگے بڑھایا ہے۔

اس طرح بھارت بہت کم خرچ پر دوسری خلائی طاقتوں کی کامیابیوں کے برابر آ کھڑا ہوا ہے۔

اگست 2023 میں بھارت تین دوسرے ممالک، روس، امریکہ اور چین کے بعد چاند پر بغیر پائلٹ کا جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا تھا۔

(اس خبر میں شامل معلومات اے ایف پی سے لی گئی ہیں)

فورم

XS
SM
MD
LG