اٹلی میں امدادی کارکنوں نے برفشارسے تباہ ہونے والے ہوٹل کے ملبے سے مزید چار افراد کو زندہ نکال لیا ہے۔
برف کھودنے کی رات بھر جاری رہنے والی امدادی کارروائیوں کے بعدمزید چار افراد کونکال کر اسپتال پہنچا دیا گیاجس کے بعد بدھ کے روز برفانی تودے گرنے سے تباہ ہونے والے ہوٹل میں زندہ بچ جانے والے افراد کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔
اٹلی کے ایک تفریحی قصبے میں واقع ریگوپیانو ہوٹل میں حادثے کے وقت 30 افراد ٹہرے ہوئے تھے۔
دو افراد اس وقت زندہ بچ جانے میں کامیاب ہوگئے جب برفانی تودے گرنے کے دوران وہاں سے نکل گئے۔ ان میں ہوٹل کا شیف گیامپیرو شامل ہے جو اپنے خاندان کے ساتھ ہوٹل میں ٹہرا ہوا تھا۔اس نے فوری طور پر ہوٹل کے مالک کو فون کر کے برفانی تودے گرنے کی اطلاع دی تھی۔
ہفتے کے روز ملبے سے نکالے جانے والے دو بچوں کے بعد ان کا خاندن زندہ بچنے میں کامیاب ہوگیا۔
فائر فائٹر محکمے کے ترجمان البرٹو مائولو نے کہا ہے کہ ہوٹل کے ملبے سے چار نعشیں نکال لی گئیں ہیں۔ جب کہ چار افراد کو برف کھود کر زندہ نکالا گیا۔
برفشار اور برفانی تودوں کے طوفان سے ہوٹل 5 میٹر اونچی برف کے نیچے دب گیا۔
یہ مقام روم سے 180 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ برف کی موٹی تہوں سے گھرے ہوئے اس علاقے میں بدھ کے رو ز زلزلے کے جھٹکے آئے تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا برفشار اور برفانی تودے گرنے کا سبب زلزلہ ہی تھا۔
ہوٹل کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ برفانی تودے گرنے سے پہلے ہی ہوٹل میں ٹہرے ہوئے تمام مہمان جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے اور سٹرک پر سے برف ہٹائے جانے کا انتظار کر رہے تھے لیکن برف صاف کرنے والے نہیں آئے اور برف کا طوفان آگیا۔