شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں ایک خودمختار کمیشن قائم کیا گیا ہے جس کا کام شیخ حسینہ کے دورِ اقتدار میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ پانچ رکنی یہ کمیشن بہت سے لوگوں کے لیے امید کی کرن تو ہے لیکن تحقیقات کی سست رفتاری کئی لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بھی ہے۔
انڈسٹری کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ سیاسی بے چینی اور تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پہلے سے ہی پروڈکشن بیک لاگ تھا جو احتجاج کی وجہ سے مزید خراب ہو گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ پاکستان میں بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش موجود ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں کچھ حلقے 50 سال قبل ہونے والے واقعات کو بھولنے پر تیار نہیں ہیں۔
سجیب واجد کا کہنا تھا کہ "ہم ایسے ڈرامے پہلے بھی دیکھتے رہے ہیں، جب ایک غیر آئینی اور غیر منتخب حکومت نے اصلاحات کا وعدہ کیا، لیکن معاملات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔"
امت شاہ نے گزشتہ جمعے کو جھارکھنڈ کے شِب گنج میں منعقدہ ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے مبینہ دراندازی کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر بنگلہ دیشی دراندازوں کو نہیں روکا گیا تو وہ 30-25 سال میں اکثریت میں آ جائیں گے۔
چٹاگانگ ہل ٹریکٹس بھارت اور میانمار کی سرحدوں سے متصل پہاڑی علاقہ ہے جس کے تین اضلاع رنگامتی، بندربان اور خاغراچاری میں طلبہ کی قیادت میں نسلی گروہ نے سڑکوں اور آبی گزرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ مذکورہ اضلاع میں بنگلہ دیش کے قدیم قبائل آباد ہیں۔
امریکہ کے محکمۂ خارجہ میں جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو بھی بھارت کے دورے کے بعد محمد یونس سے ملاقات کرنے والے امریکی وفد میں شامل ہوئے۔
اکرام سہگل کہتے ہیں کہ پروپیگنڈے کے نتیجے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حکومتی سطح پر تعلقات کتنے بھی متاثر ہوئے تاہم عوامی سطح پر نفرت نہیں پائی جاتی۔
بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل(ٰICT) کے چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے اتوار کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ چونکہ مرکزی ملزم ملک سے فرار ہو چکا ہے، اس لیے ہم اسے واپس لانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے‘۔
محمد یونس کا کہنا تھا کہ حوالگی کی درخواست تک بھارت شیخ حسینہ کو اپنے یہاں رکھنا چاہتا ہے تو رکھے۔ اس دوران شیخ حسینہ کو خاموش رہنا ہو گا۔ لیکن وہ بیانات دے رہی ہیں جو پریشان کن ہے۔
بدھ کی صبح سینکڑوں لوگوں نے ملازمتوں اور بہتر تنخواہ کا مطالبہ کرتے ہوئے فیکٹریوں کے سامنے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ساور، اشولیہ اور غازی پور کے صنعتی اضلاع میں کئی دوسری فیکٹریوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کرنا پڑا۔
رضاکارانہ طور پراسلحہ واپس کرنے کی مہم کے دوران لگ بھگ 3700 ہتھیار واپس جمع کرائے گئے ہیں جب کہ حکام کے مطابق اب بھی بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولیاں بارود برآمد کرانا باقی ہے۔
مزید لوڈ کریں